نعت گوئی میں دلکش فضا چاہیے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیانعت گوئی میں دلکش فضا چاہیے
مجھ کو طیبہ کی ٹھنڈی ہوا چاہیے
میرے شعروں میں حسنِ نبی ہو فقط
شاہِ عالم کی مجھ کو عطا چاہیے
اب تو مطلوب ہے رحمتِ دو جہاں
زندگی کو میسر شفا چاہیے
آپ آئے تو ظلمت کے بادل چھٹے
اب بھی خیرُ الورٰی کی ضیا چاہیے
آپ ہیں بے قراروں کے آقا قرار
آپ کے عشق کی انتہا چاہیے
وشمہ چاہے ہمیشہ ہی رحم و کرم
اس پہ پیارے نبی کی ردا چاہیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






