نفرت نہیں ہے مجھ کو
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiنفرت نہیں بے مجھ کو جسارت سے ڈر گیا
بے لوث عشق اس کی دنایت سے ڈر گیا
اب جس مقام پر ہوں میں حاصل ہی لیتا کر
رسوائی اس میں ہوگی شکایت سے ڈر گیا
لازم تھا عشق پیار تمازت میں ہی پڑے
اچھی نہیں ہے دشمنی نفرت سے ڈر گیا
قسمت نصیب اچھے نہیں ہیں مرے تو اب
جرات ہوئی نہ کیوں کہ عداوت سے ڈر گیا
ممکن نہیں ہے پیار سبھی کو ملے یہاں
سہہ کر غمِ فراق شقاوت سے ڈر گیا
نقصان کر چکا ہوں یہ پہلے بہت ہی میں
ہونا خسارہ ہی تھا تجارت سے ڈر گیا
ضائع ہی وقت ہونا تھا شہزاد اس لیے
بے کار پیار عشق محبت سے ڈر گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






