نفرتوں کا رواج کیا جانے؟
Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, Rawalpindi نفرتوں کا رواج کیا جانے ؟
دل سادہ مزاج کیا جانے ؟
دل کی دنیا وفا سے روشن ہے
ہوس افزا سماج کیا جانے ؟
ان کی شان کرم ہو جس کی متاع
وہ گدا ، تخت و تاج کیا جانے ؟
شان خود داری وفا ہے خوب
منت و احتیاج کیا جانے ؟
کر دیا فقر نے غنی سب سے
بے نیازی ، خراج کیا جانے ؟
مصلحت ، اہل دل کا شیوہ نہیں
عاشقی کل اور آج کیا جانے ؟
دل کی دنیا ہوس سے پاک ملی
دل یہ رسم و رواج کیا جانے ؟
عشق کی دل نوازیاں ، توبہ !
حسن نخوت مزاج کیا جانے ؟
کور چشمی کو کیا خبر رومی !
فرق سنگ و زجاج کیا جانے ؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






