نقاب الٹا ہے شمعوں نے ستارو تم تو سو جاؤ
Poet: انیس کیفی By: Osama, Karachiنقاب الٹا ہے شمعوں نے ستارو تم تو سو جاؤ
کریں گے رقص پروانے ستارو تم تو سو جاؤ
نگاہوں میں نگہ ڈالے نشے میں چور متوالے
پڑھیں گے دل کے افسانے ستارو تم تو سو جاؤ
سجے گی محفل یاراں بدن سیمابی جھومیں گے
کریں گے رقص پیمانے ستارو تم تو سو جاؤ
بھٹکتے ہیں گلستاں میں بیابانوں میں صحرا میں
مثال قیس دیوانے ستارو تم تو سو جاؤ
وہ بیٹھے ہیں جھکائے سر ادائے دلنوازی سے
لگے ہیں خود سے شرمانے ستارو تم تو سو جاؤ
کھلی زلفیں لیے وہ جھیل کی جانب خراماں سے
برہنہ پا لگے آنے ستارو تم تو سو جاؤ
دبائے ہونٹ دانتوں میں لگے ہیں چشم و مژگاں سے
نظر کے تیر برسانے ستارو تم تو سو جاؤ
اتر کر آسماں سے دیکھیے روٹھے صنم کو اب
قمر آیا ہے بہلانے ستارو تم تو سو جاؤ
ہوئے ہیں ٹکڑے ٹکڑے اب دل بسمل کے اے کیفیؔ
کہ ہوگا کیا خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤ
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






