نقاب الٹا ہے شمعوں نے ستارو تم تو سو جاؤ

Poet: انیس کیفی By: Osama, Karachi

نقاب الٹا ہے شمعوں نے ستارو تم تو سو جاؤ
کریں گے رقص پروانے ستارو تم تو سو جاؤ

نگاہوں میں نگہ ڈالے نشے میں چور متوالے
پڑھیں گے دل کے افسانے ستارو تم تو سو جاؤ

سجے گی محفل یاراں بدن سیمابی جھومیں گے
کریں گے رقص پیمانے ستارو تم تو سو جاؤ

بھٹکتے ہیں گلستاں میں بیابانوں میں صحرا میں
مثال قیس دیوانے ستارو تم تو سو جاؤ

وہ بیٹھے ہیں جھکائے سر ادائے دلنوازی سے
لگے ہیں خود سے شرمانے ستارو تم تو سو جاؤ

کھلی زلفیں لیے وہ جھیل کی جانب خراماں سے
برہنہ پا لگے آنے ستارو تم تو سو جاؤ

دبائے ہونٹ دانتوں میں لگے ہیں چشم و مژگاں سے
نظر کے تیر برسانے ستارو تم تو سو جاؤ

اتر کر آسماں سے دیکھیے روٹھے صنم کو اب
قمر آیا ہے بہلانے ستارو تم تو سو جاؤ

ہوئے ہیں ٹکڑے ٹکڑے اب دل بسمل کے اے کیفیؔ
کہ ہوگا کیا خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤ

Rate it:
Views: 741
30 Jun, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL