نقشِ جاناں
Poet: سعدیہ اعجاز By: Sadia Ijaz, Lahore,University of Educationنقشِ جاناں نے دھوم مچا رکھی ہے ،
دل کی دیوار پر ، ہر ایک نے ، اک تصویر سجا رکھی ہے
ہر اک رقصاں ہے ، اپنی ہی دھن میں پربت کے قریب
کسی نے درد دنیا کو،کسی نے متاع دنیا کو اپنی لیلا بنا رکھا ہے
کون کس سمت ہے ،کس زوق میں! آرزوئے خیال میں مست
ہم سب نے ایک نہ اک زنجیر ، پاوں میں سجا رکھی ہے
ہم تو خاک ہوۓ ،دھول ہوۓ، دل کے جوبن میں
اس ویراں جگہ میں یہ کس نے آتش جلا رکھی ہے ؟
کہیں جو خزاں آئ ، تو درد ہوا ،باغباں کے پھولوں کو
کہیں یورش ، کہیں درد نے کس قدر دھوم مچا رکھی ہے
اب تو یہ حال ہے کہ کوئ ،حال ہی نہیں
اب تو یہ بات ہے کہ کوئ ،بھی بات نہیں
لفظ رقصاں ہیں خود اپنے ہی دروازے پر
آسماں نے پھر کیوں بارش برسا رکھی ہے؟
کبھی جو دور کسی سناٹے سے آہ و زاری سنی
تو دل پر غموں کی بھی خوب آمد جاری ہوئ
خوشحال چہروں کو جو دیکھا سعدیہ، دکھ ہوا !
کس قدر حالت اپنی زمانے سے چھپا رکھی ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






