ننھا سا لہو کا قطرہ

Poet: Rashid Hasan By: Rashid Hasan, karachi

وہ قطرہ ہے لہو کا یا
جنت کا موتی ہے
گرتا پڑتا پہنچا ہے
بارگاہ میں اس کی
وہ معصوم سا چہرہ
وہ بے ضرر آنکھیں
نازک سے پازو
پوچھتے ہیں تم سے
جرم کیا ہے میرا
کس کا قتل کیا ہے
آغوش میں ماں کے
دیکھو سو رہا ہے
وہ ستم زدہ
پوچھتا ہے
کہ ظلمت کی شب
کب جائے گی ہم سے
کب جائے گی ہم سے

یہ اشعار فلسطین میں گرنے والے بچوں کے لہو پر لکھے گئے ہیں

Rate it:
Views: 767
15 Feb, 2011
More Political Poetry