ننھی سی خواہش
Poet: Ahber Chishti By: Ghulam Muhy ud din , Lahoreمیری ننھی سی خواہش ہے
کہ اب تُم لوٹ بھی آئو
تُم آنے سے ذرا پہلے بتا دینا
مجھے کُچھ پھُول لینے ہیں
ذرا بننا سنورنا ہے
مجھے کُچھ کام کرنے ہیں
تمہیں اچھے سے مِلنا ہے
کہ صدیاں ہوگئیں اب تو
زمانے ہوگئے اب تو
تمہیں دیکھا نہ بھالا ہے
تُم آنے سے ذرا پہلے بتا دینا
مجھے پلکیں جھُکانی ہیں
مجھے بازو پھیلانے ہیں
مجھے کچھ رقص کرنا ہے
میں یوں محوِ تمنا ہوں
کہ جیسے آرہے ہو تُم
میری ننھی سی خواہش ہے
کہ اب تُم لوٹ بھی آئو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






