نوحہ میری دھرتی کا - ایٹمی اسلحے کے خلاف
Poet: Abid Shakil Farooqui By: Abid shakil Farooqui, Karachiکسی معصوم کسی شیر خوار روح کے لئے
کسی ہنستے ہوئے مسکاتے ہوئے کل کے لئے
یہ زمیں جہد مسلسل کی داستاں کی امیں
ایک احساس مامتا کے لئے سینے میں
قطرے قطرے کی شکل زندگی پلاتی رہی
زندگی جو کہ ہوا بھی ہے اور سمندر بھی
زندگی اپنی بقا کے لئے ہے دھڑکن بھی
ہے کہیں ساز اور اور کہیں آ واز
گیت رم جھم کا سناتے ہوئے یہ ابر کرم
گوہر آب لٹاتی ہوئی ساون کی گھٹا
چاند کی اجلی قبا صبح کی شفاف کرن
بہتے دریاؤں ابلتے ہوئے چشموں کی زمیں
لہلہاتے ہوئے آنچل یہ میری دھرتی کے
شام کے چہرے پہ لالی یہ کسی دلہن کی
یہ ہیں ابواب کتاب حیات فطرت کے
جنکے ہر ورق پہ ہے داستان وقت رقم
کسی خاموش تغیر و ارتقا کا بیاں
کسی عظیم مصور کی انگلیوں کی زباں
جو کینوس پہ لکیروں کی شکل ڈھلتی رہی
جو کائنات کے پردے پہ نقش ہوتی رہی
یہ ٹھیک ہے کہ زمانے کے ہر تغیر میں
فنا کے ساتھ نئی اک حیاٹ ہوتی ہے
کہ کائنات کے پردے پہ کچھ نئی اشکال
عدم سے پاکے رہائی وجود پاتی رہیں
مگر یہ کیا ہوا کہ عرصہ دراز سے اب
اس کارخانہ ہستی میں چہار سو ہے دھواں
کہ کائنات کے پردے کی چاندنی ہے دھواں
میری زمیں کے سینے کی دھڑکنیں ہیں دھواں
میرے ہم وطنوں کبھی تم نے سوچا ہوگا
خاک نشیں ہو کے بھی بارود کے زرے ہونگے
میری خوراک ، غذا ہو گی میرے بچوں کی
زہر آلودہ میرے دیس کی ہوائیں ہونگی
چشم نمناک لئے خونی فضائیں ہو نگی
آؤ دیکھو کہ ہوئے جاتے ہیں ریزہ ریز
میرے صحرا میرے کوہسار شدت غم سے
اپنے ہاتھوں سے ہوئے جاتے ہیں یہ حشر بپا
پھر ہوئے جاتے ہیں دھرتی کے جگر کے ٹکڑے
پھر زباں خشک ہوئی جاتی ہے دریاؤں کی
پھر ابلنے لگا چشموں سے لہو دھرتی کا
پھر نمودار ہوئے بارود کے بیو پاری
امن کے نام پہ قابض ہوئے ایوانوں میں
زمیں کی لاش کو ٹکڑوں میں بانٹنے والے
بنے امن و صلاح جوئی کے قصیدہ خواں
یہ کون ہیں جو زمیں کا کلیجہ نوچتے ہیں
یہ کون ہیں جو امن کا سنگھار لوٹتے ہیں
زمیں کی زلف، لب و رخسار نوچنے والے
یہ کون ہیں جو بھرم آدمی کا توڑتے ہیں
یہ کینوس پہ سیاہی بکھیرنے والے
نگارخانوں کی رونق اجاڑنے وا لے
میں سخنور نیں شاعر نہیں منصف بھی نہیں
میرا لکھا ہوا کچھ ایسا معتبر بھی نہیں
اے میرے دیس کے لوگوں یہ نہیں میری کتھا
یہ ہے نوحہ دھرتی کے جگر پاروں کا
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






