نوکری اور چھوکری
Poet: Kaiser Mukhtar By: Kaiser Mukhtar, HONG KONGہو گئی ہے محبو بہ سی د یکھو لوگوں نوکری
ملی نہ ہم کو نوکری تو ملے کہاں سے چھوکری
جانے کب سے چلا ہے ایسے جہاں کا کاروبار
اس دنیا میں جی کر دیکھا ملا نہ ہم کو پیار
دفتر دفتر گھوم کے دیکھا ڈھونڈے سب بازار
ملا نہ ہم کو کوئی بھی جہاں میں روزگار
بی اے کر کے اٹھائیں گے لوگوں اب ہم سر پر ٹوکری
ملی نہ ہم کو نوکری تو ملے کہاں سے چھوکری
جہاں گئے ہیں ہم کو ملا یہ ٹکا سا جواب
دیکھو نہ اس طرح سے تم نوکریوں کے خواب
ہم تو ہوئے ڈھونڈتے اس کو کب سے ہیں بیتاب
جو نوکری نہ دلا سکے اس ڈگری کا خانہ خراب
ملی نہ ہم کو کلرکی بھی تو کرینگے سٹریٹ ہاکری
ملی نہ ہم کو نوکری تو ملے کہاں سے چھوکری
کیا کروں کہ مقدر کا سکندر نہیں ہوں میں
اور تو اور پسر افسر نہییں ہوں میں
اور اے-سی، ڈی-سی کا برادر نہیں ہوں میں
کیوں نوکری ملے کہ صاحب زر نہیں ہوں میں
ملی نہ ہم کو کسی بھی بڑے افسر کی جابری
ملی نہ ہم کو نوکری تو ملے کہاں سے چھوکری
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو







