نٹ کھٹ منوا ساون رت میں کیسا شور مچائے(گیت)
Poet: Dr.Zahid sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanنٹ کھٹ منوا ساون رت میں کیسا شور مچائے
اس پر گائے بیری کوئلیا ہائے مجھے تڑپائے
مورے سجن تری راہ تکوں میں ہاتھوں میں لے کر گجرا
بیٹھی ہوں سنگھار کیے اکھیوں میں ڈالے کجرا
دیکھ بلم ترے ہجر میں مورا کجرا نہ بہہ جائے
نٹ کھٹ منوا ساون رت میں کیسا شور مچائے
رم جھم رم جھم بوندیں برسیں تیری یاد دلائیں
ٹھنڈی ٹھنڈی مست پون میں شعلے سے جل جائیں
اٹھلاؤں میں گاتی پھروں آواز تری جو آئے
نٹ کھٹ منوا ساون رت میں کیسا شور مچائے
نٹ کھٹ منوا ساون رت میں کیسا شور مچائے
اس پر گائے بیری کوئلیا ہائے مجھے تڑپائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






