نکال اب تیر سینے سے کہ جانِ پُرالم نکلے

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

نکال اب تیر سینے سے کہ جانِ پُرالم نکلے
جو یہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے

تمنا وصل کی اک رات میں کیا اے صنم نکلے
قیامت تک یہ نکلے گر نہایت کم سے کم نکلے

مرے دل سے کوئی پوچھے شبِ فرقت کی بے تابی
یہی فریاد تھی لب پر کہ یارب جلد دم نکلے

ہوئے مغرور جب جب آہ میری بے اثر دیکھی
کسی کا اس طرح یا رب نہ دنیا ميں بھرم نکلے

مبارک ہو یہ گھر غیروں کو، تم کو، پاسبانوں کو
ہمارا کیا اجارہ ہے ، نکالا تم نے، ہم نکلے

نہ اٹھّے مر کے بھی ایسے ترے کوچے میں ہم بیٹھے
محبت ميں اگر نکلے تو ہم ثابت قدم نکلے

رہِ الفت کو اک سیدھا سا رستہ ہم نے جانا تھا
مگر دیکھا تو اس رستے ميں صدہا پیچ و خم نکلے

سمجھ کر رحم دل تم کو دیا تھا ہم نے دل اپنا
مگر تم تو بلا نکلے، غضب نکلے ، ستم نکلے

نہ نکلا دل ہی سینے سے نہ پیکاں ہی جدا نکلا
اگر نکلے تو دونوں آشنا ہو کر بہم نکلے

برا ہو اس محبت کا کہ اس نے جان سے کھویا
لگا دل اس ستمگر سے اجل کا جس سے دم نکلے

دمِ پُرسش جو دیکھا اُس بتِ سفّاک کو مُضطر
صفِ محشر سے دل پکڑے ہوئے گبھرا کے ہم نکلے

کہیں کیا دل میں کیا آيا، کہیں کیا منہ سے کیا نکلا
کہیں جو چلتے پھرتے ہم سوئےبیت الصنم نکلے

گئے ہیں رنج و غم اے داغ! بعدِ مرگ ساتھ اپنے
اگر نکلے تو یہ اپنے رفیقانِ عدم نکلے

Rate it:
Views: 1059
12 Nov, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL