نگاہوں میں سرِشام وہ مقام آگیا ہے
Poet: Maqsood Nazir OMI By: Maqsood Nazir OMI, Quettaنگاہوں میں سرِشام وہ مقام آگیا ہے
ایسے ہی لبوں پہ اُس کا نام آگیا ہے
ہمیشہ خود کو بادشاہ جانا محبت کا ہم نے
وفا مانگنے کا اب تو مقام آگیا ہے
اہل دل بتا دو سب محبت کرنے والوں کو
یہ تھا خیال میں جو وہ انجام آگیا ہے
مقصد محبت کا کامیت اور پاکیزگی ہے
خود عرضی شخی کا پھر کیا کام آگیا ہے
بے یقینی تو مقصود توہین ہے محبت کی
کیوں محبت میں عمل یہ سرِعام آگیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






