نگری نگری پِھرا مسافر گھر کا رستہ بُھول گیا
Poet: میراجی By: faisal anas, Halaنگری نگری پِھرا مسافر گھر کا رستہ بُھول گیا
کیا ہے تیرا کیا ہے میرا، اپنا پرایا بُھول گیا
کیا بُھولا، کیسے بُھولا، کیوں پوچھتے ہو؟ بس یوں سمجھو
کارن دوش نہیں ہے کوئی، بُھولا بھالا بُھول گیا
کیسے دِن تھے کیسی راتیں، کیسی باتیں گھاتیں تھیں
من بالک ہے پہلے پیار کا سُندر سپنا بُھول گیا
اندھیارے سے ایک کِرن نے جھانک کے دیکھا، شرمائی
دُھندلی چھب تو یاد رہی، کیسا تھا چہرہ ، بُھول گیا
یاد کے پھیر میں آ کر دِل پر ایسی کاری چوٹ لگی
دُکھ میں سُکھ ہے سُکھ میں دُکھ ہے، بھید یہ نیارا بُھول گیا
ایک نظر کی ایک ہی پل کی بات ہے ڈوری سانسوں کی
ایک نظر کا نُور مٹا جب اِک پل بیتا، بُھول گیا
سُوجھ بُوجھ کی بات نہیں ہے، من موجی ہے مستانہ
لہر لہر سے جا سر پٹکا، ساگر گہرا بُھول گیا
ہنسی ہنسی میں ، کھیل کھیل میں، بات کی بات میں رنگ مِٹا
دِل بھی، ہوتے ہوتے آخر گھاو کا رِسنا بُھول گیا
اپنی بیتی جگ بیتی ہے جب سے دِل نے جان لیا
ہنستے ہنستے جیون بیتا، رونا دھونا بُھول گیا
جِس کو دیکھو اُس کے دِل میں شکوہ ہے تو اِتنا ہے
ہمیں تو سب کچھ یاد رہا، پر ہم کو زمانہ بُھول گیا
کوئی کہے یہ کس نے کہا تھا، کہہ دو جو کچھ جی میں ہے
میراجی کہہ کر پچھتایا اور پِھر کہنا بُھول گیا
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






