نہ آر ہوئے نہ پار ہوئے

Poet: UA By: UA, Lahore

نہ آر ہوئے نہ پار ہوئے
ہم سایہ دیوار ہوئے

میری وفا تیرے لئے
اک بار نہیں سو بار ہوئے

میری آنکھوں کے اشک بار ہوئے
تیری چاہت میں بار بار ہوئے

مجھے دنیا سے کوئی شکوہ نہیں
بھول کر سب کو تیرے یار ہوئے

ہم نے تم سے کچھ بھی نہ کہا
کیوں ہم سے خفا سرکار ہوئے

تم سے تو کوئی وعدہ بھی نہیں
ہم پھر بھی محو انتظار ہوئے

تم میری مسیحائی کو آؤ گے
یہ سوچ کے ہم بیمار ہوئے

چوڑی کنگن گجرے سے
تم آج نہیں تیار ہوئے

زیور گہنا کیا کرنا ہے
جب تم میرا سنگھار ہوئے

عظمٰی پھولوں کی چاہت میں
کانٹوں سے الجھے خار ہوئے

Rate it:
Views: 718
09 Feb, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL