نہ آیا کر

Poet: Mohsin Naqvi By: Wajid Imran, Pirmahal

تجھے رُسوائی کا ڈر ہے نہ آیا کر
بچھڑ جانا ہی بہتر ہے نہ آیا کر

کِسی شاداب قریے میں بسا خُود کو
یہ دل اُجڑا ہوا گھر ہے نہ آیا کر

مِیرا دُکھ تجھ کو بھی اِک دِن ڈبو دے گا
بہت گہرا سمندر ہے نہ آیا کر

گزر جا آئینے جیسا بدن لے کر
یہاں ہر آنکھ پتھر ہے نہ آیا کر

گزرتے ابر کی بھگی ہوئی بخشش
زمیں صدیوں سے بنجر ہے نہ آیا کر

پلٹ جا اجنبی، وہموں کے جنگل سے
یہ پُراسرار منظر ہے نہ آیا کر

بکھرتی ریت کی ڈھانپے گی سر تیرا؟
وہ خود بوسیدہ چادر ہے نہ آیا کر

خوشی کی رُت میں محسن کو منا لینا
یہ فصل دیدہ تر ہے نہ آیا کر

Rate it:
Views: 463
18 Aug, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL