نہ اُترو اس سمندر میں

Poet: Hafeez ur rehman By: hafeez ur rehman, Peshawar

 نہ کہتیے تھے نہ اُترو اس سمندر میں
نہیں تو ڈوب جاؤ گے اُبھر پھر تم نہ پاؤ گے

ابھی انجان ہو رسمِ جِہانِ دنیا داری سے
پھنسے ہو جس بھنور میں جان لو نیچے ہی جاؤ گے

یہ وہ غم ہیں جو چلتے ہیں کہ جب تک سانس چلتی ہے
یہ اسرار ہے کیسا نہ تم یہ جان پاؤ گے

کہ دل جو بھی گیا عشق کی تاریک گلیوں میں
وہیں کھویا نہ پلٹا پلٹ تم بھی نہ پاؤ گے

محبت کھیل ہے ان کا فقط یہ کھیلنا مانگیں
کیا تاراج جن کو نہ کبھی آباد پاؤ گے

بہت ہیں سخت دل کے جان لو اس جہاں والے
پڑا جب واسطہ اِن سے تو تم بھی مان جاؤ گے

حوادث کے تھپیڑے جب پڑیں گے رات دن منہ پر
محبت عشق و اُلفت جان میری بھول جاؤ گے

Rate it:
Views: 515
14 Dec, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL