نہ جانے پہلے عید آتی ہے کہ آپ
Poet: M.ASGHAR MIRPURI By: ASGHAR KALYAL, BIRMINGHAMنہ جانےپہلےعید آتی ہےکےآپ ہیں آتے
گلشن میں روز امید کاپوداہیں لگاتے
ابھی تک نہ عید آئی ہے نہ آپ آئےہیں
ہمارےآرزوؤں کہ غنچےہیں مرجائےجاتے
جس سال آپ کبھی ہمارےگھر نہیں آتے
آپ کہ سرکی قسم ہم بھی عید نہیں مناتے
ہمارا سارادن بھوکےرہ کر گزر جاتا ہے
آپ ساتھ نہ ہوں تو ہم کچھ نہیں پکاتے
ہم جو وعدہ کریں وہ نبھاکہ دکھاتےہیں
اصغر جی یوں ہی جھوٹی باتیں نہیں بناتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






