نہ جانے کیوں لوگوں نے ۔۔۔ ؟
Poet: UA By: UA, Lahoreنہ جانے لوگوں نے کیوں دلچسپی لینا چھوڑ دیا ہے
لکھنے پڑھنے کے فن میں دلچسپی لینا چھوڑ دیا ہے
کوئی رائے، کوئی تبصرہ اور تنقید نہیں ہوتی
اب تو کچھ بھی لکھ ڈالیں کوئی تعریف نہیں ہوتی
لکھنے پڑھنے کے شغل میں کیونکر پڑنا چھوڑ دیا ہے
نہ جانے لوگوں نے کیوں دلچسپی لینا چھوڑ دیا ہے
لکھنے پڑھنے کے فن میں دلچسپی لینا چھوڑ دیا ہے
پہلے تو دن رات قلم اور کاغذ میں گم رہتے تھے
عمدہ کتب اور عمدہ رسائل کے دفتر میں رہتے تھے
قلم ،کتاب، اور کاغذ کی لذت میں رہنا چھوڑ دیا ہے
نہ جانے لوگوں نے کیوں دلچسپی لینا چھوڑ دیا ہے
لکھنے پڑھنے کے فن میں دلچسپی لینا چھوڑ دیا ہے
دنیا داری کے جھگڑے تو روز بگڑتے رہتے ہیں
اپنوں سے یا غیروں سے انسان جھگڑتے رہتے ہیں
اسلحہ، بندوق، بموں، بارود سے رشتہ جوڑ لیا ہے
نہ جانے لوگوں نے کیوں دلچسپی لینا چھوڑ دیا ہے
لکھنے پڑھنے کے فن میں دلچسپی لینا چھوڑ دیا ہے
تلخی دوراں نے شاید پابند سلاسل کر ڈالا ہے
انسانوں کی حریت کو پھر قید مسلسل کر ڈالا ہے
دہشت گردی، فتنہ فساد اور قتل و غارت گردی نے
بدلی رتوں کی دھوپ چھاؤں گرمی نے اور سردی نے
ظلم و بربریت سے کیوں انسان کا رشتہ جوڑ دیا ہے
نہ جانے لوگوں نے کیوں دلچسپی لینا چھوڑ دیا ہے
لکھنے پڑھنے کے فن میں دلچسپی لینا چھوڑ دیا ہے
پہلے تو ہر رات نئی، ہر دن سہانا لگتا تھا
چھوٹی چھوٹی سی باتیں جینے کا بہانا لگتا تھا
اب تو خوشیاں ملنے پر بھی کھل کر ہنسنا چھوڑ دیا ہے
نہ جانے لوگوں نے کیوں دلچسپی لینا چھوڑ دیا ہے
لکھنے پڑھنے کے فن میں دلچسپی لینا چھوڑ دیا ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






