نہ خیالِ سود و زیاں رہا
Poet: By: Ubaid Gabani, Karachiنہ خیالِ سود و زیاں رہا، نہ کسی خوشی کی طلب رہی
ترے بعد کوئی سکوں رہا ، نہ ہوائے شہرِ طرب رہی
مری دھڑکنوں میں*بسی ہوئی ، مرے خُون میں* ہے گُھلی ہوئی
وہ ترے جمال کی تازگی جو مرے جنوں کے سبب رہی
مرے بعد گزری ہے اُس پی کیا، مجھے اُس کی کوئی خبر نہیں
وہ اُجالتی رہی زندگی کہ اسیرِ حلقہء شب رہی
وہ نہیں ہے تو نہیں خود سے بھی کوئی رابطہ کوئی سلسلہ
وہی روز و شب مرے بس میں تھے، مری دسترس میں وہ جب رہی
تُو رہا کسی کی تلاش میں، میں تری تلاش میں گُم رہا
تری جستجو بھی عجیب تھی، مری جستجو بھی عجب رہی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






