نہ داغ دل سے مٹے گا کبھی جدائی کا (گیت)

Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistan

سہوں گا کیسے بھلا زخم بے وفائی کا
نہ داغ دل سے مٹے گا کبھی جدائی کا

تمھارا پیار تو جھونکا تھا کیسے رک پاتا
تمھارا پیار مجھے راس کس طرح آتا
تمھارے دل کو وفاؤں سے بھی نہ جیت سکا
قریب تم کو میں لاتا تو کس طرح لاتا

صلہ یہ کیسا ملا مجھ کو آشنائی کا
نہ داغ دل سے مٹے گا کبھی جدائی کا

جوانی میری بھٹکتی پھرے گی راہوں میں
رہے گا اور ہی کوئی تمھاری بانہوں میں
ہنسو گی تم نئے محبوب کی رفاقت میں
کروں گا زیست بسر اب میں سرد آہوں میں

بنا ہے پیار سبب میری جگ ہنسائی کا
نہ داغ دل سے مٹے گا کبھی جدائی کا

سہوں گا کیسے بھلا زخم بے وفائی کا
نہ داغ دل سے مٹے گا کبھی جدائی کا
 

Rate it:
Views: 1055
13 Nov, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL