نہ داغ دل سے مٹے گا کبھی جدائی کا (گیت)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanسہوں گا کیسے بھلا زخم بے وفائی کا
نہ داغ دل سے مٹے گا کبھی جدائی کا
تمھارا پیار تو جھونکا تھا کیسے رک پاتا
تمھارا پیار مجھے راس کس طرح آتا
تمھارے دل کو وفاؤں سے بھی نہ جیت سکا
قریب تم کو میں لاتا تو کس طرح لاتا
صلہ یہ کیسا ملا مجھ کو آشنائی کا
نہ داغ دل سے مٹے گا کبھی جدائی کا
جوانی میری بھٹکتی پھرے گی راہوں میں
رہے گا اور ہی کوئی تمھاری بانہوں میں
ہنسو گی تم نئے محبوب کی رفاقت میں
کروں گا زیست بسر اب میں سرد آہوں میں
بنا ہے پیار سبب میری جگ ہنسائی کا
نہ داغ دل سے مٹے گا کبھی جدائی کا
سہوں گا کیسے بھلا زخم بے وفائی کا
نہ داغ دل سے مٹے گا کبھی جدائی کا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






