نہ دولت نہ شہرت نہ عزت نہ طاقت
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ROMANIAنہ دولت نہ شہرت نہ عزت نہ طاقت
ترے ساتھ جائے گی تیری عبادت
اسے اپنے لب پر سجا کر نہ رکھئے
ہے سب سے بری چیز دنیا میں غیبت
مرے ہاتھ پھیلے ہیں غیروں کے آگے
کہاں آگئی لے کے مجھ کو ضرورت
یہ ہے دور کیسا کہ روٹی کی خاطر
لہو کی بھی ہونے لگی ہے تجارت
ترے سونے دل کو میں آباد کر دوں
مجھے دل میں آنے کی دے دو اجازت
غرض اپنا چہرہ بدلتی ہے اکثر
کسی کو کسی سے کہاں ہے محبت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






