نہ دیکھا کرو یوں حسرت سے مجھے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaمحبت ہے تم سے
ًمحبتوں کی بات کرتے ہے
چلو آو اناوں کو توڑ کر
اک راستے کو اختیار کرتے ہے
میری زندگی تمہاری ہوئی
اب تمہاری زندگی میں اپنا آغاز کرتے ہے
محفلوں کو چھوڑتے ہیں آؤ
تنہایوں میں ملاقات کرتے ہے
تم چاند ہو تو پھر آج تمہاری
چاندی کو تمہارے نام کرتے ہے
کچھ تو بول بولوں محبت کے
کہ مدت سے تمہاری چاہیت کا انتظار کرتے ہے
یہ جان تو حاضر ہیں تمہارے لیے
ملتی اگر سو ، تو انہیں بھی تم پے قربان کرتے ہے
نہ دیکھا کرو یوں حسرت سے مجھے
میں تمہاری ہی ہوں ، آج اعلان کرتے ہے
محبت ہیں تم سے آؤ
ًمحبتوں کی بات کرتے ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






