نہ وہ جھنگ سیال سے نہ میں تخت ہزارے کا
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaاُداسیوں کے شہر میں غم کی جاگیر میری ہے
خوشیوں کے درمیان جو کھینچی گئی لکیر میری ہے
میرا تخت ہے خاک کا سر پہ تاج بدنامیوں کا
میں شہنشائے غربت ہوں حالتِ دلگیر میری ہے
میری زندگی میں ہیں تلخیاں میری سوچ میں کہرام ہے
میرے اپنے ہی ارمانوں پہ تیز دار شمشیر میری ہے
سارے جہان کی مایوسیاں میرے بخت کی گود میں
خواب ہیں میرے ڈراؤنے حیات تعبیر میری ہے
نہ وہ جھنگ سیال سے نہ میں تخت ہزارے کا
نہال دل یونہی رانجھا بنا ، رہا کہتا وہ ہیر میری ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






