نہ پاس ساقی ہے
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore pakistanنہ پاس ساقی ہے، پینے کو نہ ہی بادہ ہے
تو اب خدا کو کریں یاد غم بھی زیادہ ہے
سمجھ بھی پاتا وہ دشمن کی چال کو کیسے
مرا رفیق بھی مجھ سا ہی سیدھا سادہ ہے
ٹھہر گئے ہیں یہ چلتے قدم کہاں آ کر
نہ سامنے کوئ منزل ہے نہ ہی جادہ ہے
جیؤں گا لے کے ترا نام یہ رہا وعدہ
میں اپنا وعدہ نبھاؤں گا تجھ سے وعدہ ہے
کبھی جو ہو کے پشیماں وہ ملنے آ جائے
بھلا دوں ساری جفائیں کہ دل کشادہ ہے
پھر اس کی ایک جھلک دیکھنے چلے زاہد
پھر اس کے در پہ ہوں مایوس یہ ارادہ ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






