نہ پوچھ ہم سے ہماری اڑان چھوڑ نہ یار

Poet: چاند اکبرآبادی By: مصدق رفیق, Karachi

نہ پوچھ ہم سے ہماری اڑان چھوڑ نہ یار
بڑی طویل ہے یہ داستان چھوڑ نہ یار

نکل پڑے جو سفر میں تو سوچنا کیسا
کہاں ہے دھوپ کہاں سائبان چھوڑ نہ یار

دبی ہے آگ جو دل میں اسے کریدو مت
یہیں کہیں تھا ہمارا مکان چھوڑ نہ یار

یہ سوچ ہم کو پہنچنا ہے اپنی منزل تک
نہ گن کسی کے قدم کے نشان چھوڑ نہ یار

خوشی تھی مول تو غم تھا بیاج کے جیسا
تمام عمر بھرا ہے لگان چھوڑ نہ یار

ہوا ہے زندگی بھر کی جگاڑ روٹی کا
بکی ہے قسطوں میں اپنی دکان چھوڑ نہ یار

لباس سنتی ہے امتی محمدی ہوں
نہ پوچھ اب یہ نسب خاندان چھوڑ نہ یار

یہ سب بلندیاں اللہ کے لیے ہیں چاندؔ
مقام مرتبہ رتبہ یہ شان چھوڑ نہ یار
 

Rate it:
Views: 395
25 Jun, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL