نہ پوچھ ہے کیسی میرے یار کی صورت؟
Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, Kamaliaنہ پوچھ ہے کیسی میرے یار کی صورت؟
بس چاند سے ملتی ہے میرے دلدار کی صورت
جب سے سنا ہے ،ہے وہ آنے والا
بدل گئی ہے گھر بار کی صورت
جب سے ہوا ہے اس کا آنا جانا
ہے دیکھنے والی اغیار کی صورت
اک تیری خاطر ہوا دشمن زمانہ
آنکھوں میں چبھتا ہوں خار کی صورت
وہی سوچوں کا محور ،وہی یادوں کا مرکز
گرد اس کے میں گھوموں پرکار کی صورت
اب ملنا کجا دیکھنا بھی نہیں ممکن رہا
اغیار آگئے درمیاں دیوار کی صورت
تھا کل بھی اکیلا ہے آج بھی تنہا
نواز آئے نظر بیمار کی صورت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






