نہال سانحہ پشاور کی خاموشیاں چھا گئیں ہر طرف
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaمعصوموں کی آہیں سن کے جنگل خاموش ہوا
گلستان خاموش ہوا ہر گُل خاموش ہوا
چیخیں گونجھنے لگیں اِس قدر ہواؤں میں
اپنے درد میں تڑپتا ہر بسمل خاموش ہوا
لفظ خاموش ہوئے دیکھ کے ظلم کی انتہا
جسم و جاں خاموش ہوئے ہر دل خاموش ہوا
کشتیاں سو گئیں ، لہریں تھم سی گئیں آج
بھیگی ریت چُپ رہی ، ساحل خاموش ہوا
اِک ننھی سی صدا روتے روتے جو خاموش ہوئی
ایسا لگا جیسے کائنات کا ہر پل خاموش ہوا
نہال سانحہ پشاور کی خاموشیاں چھا گئیں ہر طرف
صرف نہ ہوا خاموش نہ قاتل خاموش ہوا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






