نہنگِ یاد سے ، یہ دل ستیزہ کار رہا
Poet: عنایت الرحمان By: عنایت الرحمان, ایبٹ آبادنہنگِ یاد سے ، یہ دل ستیزہ کار رہا
جو بحرِ غم میں رہا محرومِ رستگار رہا
اگرچہ دعویٰ نہیں ہم کو تیری چاہت کا
مگر یہ دل ، کہ سدا تیرا پرستار رہا
تمہیں بھی شوق نہ تھا درد و غم کے قصوِں کا
بیانِ حالتِ دل ، اپنے بھی جی پہ بار رہا
ہمیں تو عشق کی بے چینیاں رُلاتی رہیں
تمہارے دل پہ ، تمہیں کتنا اختیار رہا
محبتوں میں الگ سے ہیں سارے رِیت و رواج
اُسی نے دھوکہ دیا ، جس پہ اعتبار رہا
تمام عمر ، اُسی ایک شخص کی خواہش
تمام عمر ، خسارے کا کاروبار رہا
جمالِ دوست کا اعجاز ہے اُجاڑ سا گھر
بس ایک جلوے سے، اِک عمر مُشکبار رہا
تُمہارے عہد کا یہ المیہ ہے چارہ گرو
کہ حق پرستی کا انجام رسن و دار رہا
تمہیں تو خیر یہ احساس بھی نہیں ہو گا
کسی کو وقتِ نزع ، کس کا انتظار رہا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






