نہیں منت کشِ تابِ سماعت المیہ اپنا
Poet: خلیلی قاسمی By: خلیلی قاسمی, Indiaنہیں منت کشِ تابِ سماعت المیہ اپنا
چھلکتا جائے ہے پیمانہٴ صبر و وفا اپنا
میں کیسے دل کو بہلاؤں، میں کیسے اس کو سمجھاؤں
کہ اب سے بھی آگے بڑھ گیا ہے مسئلہ اپنا
مگر اک بات پھر بھی باعثِ تسکینِ خاطر ہے
کہ ہے ہنگامہ آرا ان کے دل میں تذکرہ اپنا
مرا دل جلوت و خلوت کی قیدوں میں نہیں ہرگز
ہمیشہ آتش ہجراں میں جلنا مشغلہ اپنا
مجھے معلوم ہیں مجبوریاں اپنی بھی ان کی بھی
محض اس واسطے ہے خامشی بس فیصلہ اپنا
وہ کوئی اور ہوگا چاہ کر پھر بھولنے والا
نہیں ہے چاہ کر پھر بھول جانا حوصلہ اپنا
وہ گو معبود کا مسئلہ ہو یا محبوبِ دنیا کا
فقط توحید کا ہر باب میں ہے نظریہ اپنا
سرِ بازار بے گور و کفن ہے عشق کی میت
نہیں قابل سنانے کے خلیلی# مرثیہ اپنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






