نہیں کرتے
Poet: yasir khan By: yasir khan, Sibiمٹی سے بنے گھروں کو گرایا نہیں کرتے
ہنستے ہوئے چہروں کو رلایا نہیں کرتے
مہندی لگے ہاتھوں کو چھپایا نہیں کرتے
ہوں جاہنے والوں کو ستایا نہیں کرتے
رہتا ہے خیال ہر پل ہی انکا دل کو
ہونہی تو وہ خوابوں میں آیا نہیں کرتے
چھا جاتا ہے خمار فقط انکو دیکھنے سے
پانی میں ہم شراب ملاہا نہیں کرتے
وہ شخص تو پھر بھی اپنا رہا ہے
ہم تو غیروں کو بھی بھلایا نہیں کرتے
ہم تو رکھتے ہیں کچھ بھرم انکا
ہر بات دل کی سبکو بتایا نہیں کرتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






