نیا سال
Poet: وشمہ خان وشمہ By: washma khan washma, Karachiکیف و مستی گھٹائیں ، نیا سال ہے
خوبرو ہیں فضائیں نیا سال ہے
دور ہوتے ہوئے، غم میں روتے ہوئے
آ ذرا مسکرائیں نیا سال ہے
اک ترے نام کا دل کی دیوار پر
پھر کیلنڈر لگائیں نیا سال ہے
آنکھ کے آئینے میں نیا عکس ہو
بھول جائیں جفائیں نیا سال ہے
جان لیوا یہ غم ہیں غمِ زندگی
"مل کے بانٹیں وفائیں نیا سال ہے"
تم بصیرت کی آنکھوں سے دیکھو ذرا
تم کو دیں گے دعائیں نیا سال ہے
وشمہ زندہ ہے وہ جو ہمیں بھول کر
اس کو ہم بھول جائیں نیا سال ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






