نیا سال آیا ہے۔۔۔۔۔کیا نیا سال لیایا ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreنیا سال آیا ہے ۔۔۔۔۔ کیا نیا سال لایا ہے
آج بھی وہی درد ہے ویسا ہی آرام ہے
آج بھی وہی فرصت ہے آج بھی وہی کام ہے
آج بھی دَھندلی کَہر میں لپٹی دسمبر جیسی صبح ہے
آج بھی دسمبر جیسی یخ بستہ سی شام ہے
بالکل دسمبر کی رات کے جیسی سرد خاموش رات ہے
گھریلو کام کاج دفتری معاملات وہی انداز وہی آداب وہی میل مِلاپ پے
وہی جھگڑے وہی مسئلے لایا ہے وہی محبتیں وہی سلوک
سارے منظر سارے چہرے سب اوقات سالِ گذشتہ جیسے ہیں
ہر رشتے ہر بات کو پہلے جیسا ہی پایا ہے
نیا سال آیا ہے ۔۔۔۔۔ کیا نیا سال لایا ہا
ہاں لیکن ایک تبدیلی نیا سال لا یا ہے
دفتر کی ٹیبل پہ رکھا ٢٠١٢ کا ٹیبل کیلینڈر
گھر کے کمرے کی دیوار پہ آویزاں ٢٠١٢ کاکیلینڈر
ٹیبل سے اَٹھایا گیا ہے دیوار سے ہٹایا گیا ہے
ان دونوں کی جگہ ٢٠١٣ کیلنڈر اب سجایا گیا ہے
وہی ایک ہندسے کی تبدیلی جو ہر سال لے کے آتا ہے
اِس سال بھی بس وہی ایک تبدیلی نیا سال لایا ہے
نیا سال آیا ہے ۔۔۔۔۔ کیا نیا سال لایا ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






