نیا سال کسے کہتے ہیں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillاپسراؤں سے خدوخال کسے کہتے ہیں
تم سے ہی جانا کہ جمال کسے کہتے ہیں
ابھی کچھ دیر تیرے در کی زیارت کر لوں
لوٹ کر سوچوں گا ملال کسے کہتے ہیں
ترے لہجے کی ندرتوں سے یہی راز کھلا
لفظ ۔ ادراک اور خیال کسے کہتے ہیں
مرے سجدوں کی تمنا پہ تبصرہ نہ کرو
دیکھتے جاؤ بس کمال کسے کہتے ہیں
پوچھنا آئینے سے آنکھ ملا کر تو کبھی
یہ نظر ہے توبھلا جال کسے کہتے ہیں
کیا خبر انکو مسافت سے جو رہے ڈرتے
ہجر کیا چیز ہے ۔ وصال کسے کہتے ہیں
ایک تصویر سی سینے میں دبا رکھی ہے
درد کی اور بتا ڈھال کسے کہتے ہیں
اتنا معلوم ہے دل پر ہے بس تمہارا نقش
کیا خبر ۔ نامہء اعمال کسے کہتے ہیں
مری دنیا میں تو کہتے ہیں تری آرزو کو
ترے لفظوں میں نیا سال کسے کہتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






