واسطہ ہے مرا جہان سے آج
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاواسطہ ہے مرا جہان سے آج
ایک صحرا میں امتحان سے آج
میری دنیا کو دیکھنے کے لئے
چاند اترا ہے آسمان سے آج
دل کی تختی پہ پیار لکھیں گے
میرا وعدہ ہے میری جان سے آج
تیری دنیا میں ایک مدت بعد
دن گزارا ہے اتنی شان سے آج
اس نے توڑا ہے چپ کا دروازہ
میرے کہنے پہ اتنے مان سے آج
وہ تو جھوٹا ہے ساری دنیا کا
کیسے وعدہ کرے زبان سے آج
میں بھی جاگی تھی رات بھر لیکن
وہ بھی بیٹھا رہا گمان سے آج
اپنی خوشیوں کو بیچ کر اب تو
درد لائی ہوں اک دکان سے آج
اک پرندے کو دیکھ کر وشمہ
تیر نکلا نہیں کمان سے آج
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






