واہ معاف کیجٸیے۔۔۔!!!!
Poet: Naila Rani By: Naila Rani, Lahoreہر ادا بے مثا ل ہے
گفتگو لا جواب ہے
ہر ہنر بھی کمال ہے
بے حد زباں دراز ہے
بندہ گناہ گار ہے
مجھے معاف کیجٸے
تیری بے اثر صدا ہے
میری اک التجا ہے
لب پہ تیری ثنا ہے
حال بہت برا ہے
آساں میرا بیاں ہے
بس معاف کیجٸے
تجھ پہ اعتبار ہے
غم سے نڈھال ہے
زندگی بے حال ہے
دل میں میرے پیار ہے
مجھکو تیرا خیال ہے
مگر معاف کیجٸے
چشم میری بے زار ہے
تیرا ہاتھ میرے ہاتھ ہے
تو تو بس میرا یار ہے
پھر بھی اک خمار ہے
سینے میں کیوں نار ہے
یار معاف کیجٸے
ہر بات بے کار ہے
ہر وقت تیرا خیال ہے
مجھے عشق کا بخار ہے
قلب میرا گلزار ہے۔۔۔۔
بس میرا رب دلدار ہے
واہ معاف کیجٸے۔۔۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






