وبا نے جو آگھیرا
Poet: Saba Naz By: Saba Naz, Karachiوبا نے جوآگھیرا
تب زندگی کا مطلب کچھ سمجھ آیا!
دو پل کے جینے میں سے
اک پل تو گنوا ڈالا
بے فکری کی موجیں تھیں
کبھی وقت نہ تھا خود سے ملنے کا
اب جو مل بیٹھے ہیں اپنوں کے سنگ
بیتے وقتوں نے آگھیرا ہے
کبھی بچپن کی شرارت تو کبھی لڑکپن کے قصے
امیدی و ناا میدی کی یادوں کی آہٹ
اب یک دم محسوس ہوتی ہے
جانے کب ہو ملنا ان یاروں سے
جن کی باتوں پہ بے وجہ ہنسی آجاتی تھی
غموں میں گلے لگانے والے غلطی پر دو سنانے والے
خیر وقت تو اب بھی اچھا ہے اپنا
واٹس ایپ و فیس بک کا زمانہ جو ہے
دور رہ کر بھی اپنوں کے پاس ہیں
کیا اتنا ہی کافی نہیں ؟
ایسے میں کچھ بے پروہ نکل پڑیں ہیں
منہ پر ماسک اور ہاتھوں میں دستانیں سجائے
آخر یہ سیل کا معاملہ ہے ، شاپنگ پر کیسے نہ جائے
پھر رونا کیوں ہے وبا کا ؟
ہم نے موت کو خود ہی دعوت دی ہے
اب لگے ہیں ان ہسپتالوں کی قطاروں میں
جہاں بستر کے دام لگتے ہیں
حکومت سے آس لگائی کب کس نے ؟
حکومت کب کسی کی ہوتی ہے
ایسا جینا بھی کیا جینا
وبا نے جو آگھیرا
تب زندگی کا مطلب کچھ سمجھ آیا !
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






