وجود کھو رہا تھا لیکن مجھے پتہ نہ تھا
Poet: UA By: UA, Lahoreوجود کھو رہا تھا لیکن مجھے پتہ نہ تھا
عشق ہو رہا تھا لیکن مجھے پتہ نہ تھا
انقلاب ذات کی خودی سے بے نیاز
بیدار ہو رہا تھا لیکن مجھے پتہ نہ تھا
گمنام شہر دل میں خامشی کیساتھ
مشہور ہو رہا تھا لیکن مجھے پتہ نہ تھا
روح و بدن کے درمیاں جہاد کے لئے
تیار ہو رہا تھا لیکن مجھے پتہ نہ تھا
ناممکنات میں سے جو فعل تھا اسی کا
امکان ہو رہا تھا لیکن مجھے پتہ نہ تھا
اجڑے دیار دل میں تعمیر نو کا پھر سے
آغاز ہو رہا تھا لیکن مجھے پتہ نہ تھا
عظمٰی سہل نہیں تھا جو کام اب وہی
آسان ہو رہا تھا لیکن مجھے پتہ نہ تھا
وجود کھو رہا تھا لیکن مجھے پتہ نہ تھا
عشق ہو رہا تھا لیکن مجھے پتہ نہ تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







