وحشت زدہ میخانے

Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, Karachi

اجڑی ہوئی شاموں کے وحشت زدہ میخانے
ٹکڑوں میں پڑے دیکھے دہشت زدہ پیمانے

موسم کے بدلتے ہی ہر چیز نے رنگ بدلا
اپنے بھی ہوئے سارے نفرت زدہ بیگانے

آ تجھ کو دکھاؤں میں ماضی کے جھروکوں سے
لیلیٰ کی محبت میں مجنوں سے وہ دیوانے

یاں دل میں کدورت ہے، ذہنوں میں عداوت ہے
اب کون سنے مجھ سے یہ پیار کے افسانے

کیا میرے مقدر میں یہ قید ہی لکھی ہے
تاریک، گھٹن، بدبو، سیلن زدہ تہہ خانے

اسکو تو ابھی میں نے تنبیہہ بھی نہیں کی تھی
پہلے ہی لگا مجھ پر غصے سے وہ غرانے

اقرار ہے پوشیدہ انکا ر کے لفظوں میں
رشوت کو وہ لیتا ہے انداز بہ نذرانے

اک بار محبت سے شمع جو کہا اس کو
اترا کے وہ یہ بولا جل جا میرے پروانے

دامن بھی نہیں پکڑا آنچل بھی نہیں کھینچا
بڑھتے جو مجھے دیکھا وہ لگ پڑے شرمانے

چکرا کے وہ گرتے تھے تھاما جو انہیں بڑھکر
آکر میری بانہوں میں آنچل لگے لہرانے

بھولے سے خلا ف اسکے اک شعر جو لکھا تھا
بھرنے ہی پڑے اشہر اسکے مجھے ہرجانے

Rate it:
Views: 389
14 Feb, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL