وحشتیں، خوف، گھٹن، اوڑھ کے سو جاتا ہوں

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

وحشتیں، خوف، گھٹن، اوڑھ کے سو جاتا ہوں
اور کچھ دل کی لگن اوڑھ کے سو جاتا ہوں

جب بھی یادوں کے دریچوں سے دھواں اٹھتا ہے
اپنی آہوں کی جلن اوڑھ کے سوجاتا ہوں

چھوڑ جاتے ہیں جو احباب میرے آنگن میں
تلخ لفظوں کی چبھن اوڑھ کے سوجاتا ہوں

روز دھرتی کو بناتا ہوں میں بستر اپنا
اور پھر سر پہ گگن اوڑھ کے سوجاتا ہوں

تیرے احساس کی خوشبو کو بسا کر دل میں
تیرے لہجے کی تھکن اوڑھ کے سوجاتا ہوں

روز خیرات کی ذلت سے بچا کر خود کو
روز اک بھوکا بدن اوڑھ کے سوجاتا ہوں

خانہء دل میں بھڑک اٹھتے ہیں شعلے جس دم
جلتے خوابوں کا کفن اوڑھ کے سوجاتا ہوں

شب کی دہلیز پہ سر رکھکےمیں چپ چاپ امین
خواہشِ صبحِ چمن اوڑھ کے سوجاتا ہوں

Rate it:
Views: 421
23 Nov, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL