وحشتیں، خوف، گھٹن، اوڑھ کے سو جاتا ہوں
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIوحشتیں، خوف، گھٹن، اوڑھ کے سو جاتا ہوں
اور کچھ دل کی لگن اوڑھ کے سو جاتا ہوں
جب بھی یادوں کے دریچوں سے دھواں اٹھتا ہے
اپنی آہوں کی جلن اوڑھ کے سوجاتا ہوں
چھوڑ جاتے ہیں جو احباب میرے آنگن میں
تلخ لفظوں کی چبھن اوڑھ کے سوجاتا ہوں
روز دھرتی کو بناتا ہوں میں بستر اپنا
اور پھر سر پہ گگن اوڑھ کے سوجاتا ہوں
تیرے احساس کی خوشبو کو بسا کر دل میں
تیرے لہجے کی تھکن اوڑھ کے سوجاتا ہوں
روز خیرات کی ذلت سے بچا کر خود کو
روز اک بھوکا بدن اوڑھ کے سوجاتا ہوں
خانہء دل میں بھڑک اٹھتے ہیں شعلے جس دم
جلتے خوابوں کا کفن اوڑھ کے سوجاتا ہوں
شب کی دہلیز پہ سر رکھکےمیں چپ چاپ امین
خواہشِ صبحِ چمن اوڑھ کے سوجاتا ہوں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






