ورق کورا نہ رہ جائے
Poet: UA By: UA, Lahoreابھی کچھ کہنا باقی ہے
ابھی کچھ لکھنا باقی ہے
مگر جو کہنا چاہتے ہیں
مگر جو لکھنا چاہتے ہیں
عجب قصہ ہے کہ ہم وہ
ابھی تک سمجھ نہیں پائے
ابھی تک جان نہیں پائے
ابھی پہچان نہیں پائے
جو لکھنا ہے وہ لکھ نہیں پائے
جو سمجھنا ہے سمجھ نہیں پائے
کیا معلوم کیا لکھنا ہے
کیا معلوم کیا سمجھنا ہے
سمجھنے اور چاہنے میں
چاہنے اور سمجھنے میں
کتنی دیر لگتی ہے
کہو کیا دیر لگتی ہے
کہیں ایسا نہ ہو جائے
کہ ہم بس سوچتے جائیں
مگر کچھ جان نہ پائیں
اور کچھ بھی نہیں چاہیں
کہ ہم کچھ لکھ نہیں پائیں
قلم نہ ساتھ دے پائے
ورق کورا ہی رہ جائے
کسی بتنام منزل کے
کسی گمنام رستے کا
کسی بےنام خواہش کا
کسی ان دیکھے سپنے کا
کسی ان ہونی بستی کی
کئی انجانی گلیوں کا
ہر اک عنوان مٹ جائے
کہ ہم جو کہنا چاہتے ہیں
وہی ہم کہہ نہیں پائے
ادھوری سوچ کا کوئی
فسانہ کہہ نہیں پائے
ورق کورا ہی رہ جائے
بہت کچھ کہنا چاہتے ہیں
بہت کچھ لکھنا چاہتے ہیں
مگر ہم خود ابھی تک یہ
سمجھنے ہی نہیں پائے
کہ ہم جو کہنا چاہتے ہیں
وہی تو کہہ نہیں پائے
کہ اب تو دل بھی کہتا ہے
یہی اندیشہ رہتا ہے
ورق کورا نہ رہ جائے
ورق کورا نہ رہ جائے
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






