وشمہ یہ گھڑی مجھ پہ قیامت کی گھڑی ہے

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا

 وحشت مری پہلے سے بھی کچھ اور بڑھی ہے
جس دن سے مرے پاؤں میں زنجیر پڑی ہے

ہم خواب میں کھیلے تھے جو کل زلف سے تیری
اس دن سے نظر مجھ پہ زمانے کی کڑی ہے

تھم تھم کے برستے ہیں یہ رم جھم کی طرح سے
آنکھوں میں یہ آنسو ہیں کہ ساون کی جھڑی ہے

پامال نہ کرنا مرے احساس کی دولت
خوابوں کے نگر کو کبھی سنساں بھری ہے

پندار محبت کو بثانا ہے تو اے دوست
اس ترکِ تعلق کا بھی اعلان پڑی ہے

آگے نہ بڑھیں گے کبھی ہم راہ وفا میں
ہم لوگوں میں نفرت کی جو دیوار کھڑی ہے

وہ مجھ سے گھڑی بھر کے لئے دور ہوئے ہیں
وشمہ یہ گھڑی مجھ پہ قیامت کی گھڑی ہے

Rate it:
Views: 222
15 Apr, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL