وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں
Poet: سحر انصاری By: تنویر, Rawalpindiوصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں
وہ فاصلے بھی گئے اب وہ قربتیں بھی گئیں
دلوں کا حال تو یہ ہے کہ ربط ہے نہ گریز
محبتیں تو گئیں تھی عداوتیں بھی گئیں
لبھا لیا ہے بہت دل کو رسم دنیا نے
ستم گروں سے ستم کی شکایتیں بھی گئیں
غرور کج کلہی جن کے دم سے قائم تھا
وہ جرأتیں بھی گئیں وہ جسارتیں بھی گئیں
نہ اب وہ شدت آوارگی نہ وحشت دل
ہمارے نام کی کچھ اور شہرتیں بھی گئیں
دل تباہ تھا بے نام حسرتوں کا دیار
سو اب تو دل سے وہ بے نام حسرتیں بھی گئیں
ہوئے ہیں جب سے برہنہ ضرورتوں کے بدن
خیال و خواب کی پنہاں نزاکتیں بھی گئیں
ہجوم سرو و سمن ہے نہ سیل نکہت و رنگ
وہ قامتیں بھی گئیں وہ قیامتیں بھی گئیں
بھلا دیے غم دنیا نے عشق کے آداب
کسی کے ناز اٹھانے کی فرصتیں بھی گئیں
کرے گا کون متاع خلوص یوں ارزاں
ہمارے ساتھ ہماری سخاوتیں بھی گئیں
نہ چاند میں ہے وہ چہرہ نہ سرو میں ہے وہ جسم
گیا وہ شخص تو اس کی شباہتیں بھی گئیں
گیا وہ دور غم انتظار یار سحرؔ
اور اپنی ذات پہ دانستہ زحمتیں بھی گئیں
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






