وصالِ دل
Poet: By: مصدق رفیق, Karachiسنو اے ہم سفر میرے
مجھے تم سے یہ کہنا ہے
مجھے تم سے محبت تھی
مجھے تم سے محبت ہے
مرے دن رات میں تم ہو
مری ہر بات میں تم ہو
خوشی کے جتنے موسم بھی
تمہارے ساتھ دیکھے ہیں
مرے جیون کا حاصل ہیں
تمہارے نام کے جگنو
تمہارے لمس کی خوشبو
تمہارے پیار کا جادو
مری رگ رگ میں شامل ہیں
میں اپنی ذات کے چاہے کسی موسم میں رہتی ہوں
ہر اک موسم تمہارا ہے
تمہارا ساتھ پیاراہے
مرے ہر پل میں رہتے ہو
جو میرا دل ہے پاگل سا
اسی پاگل میں رہتے ہو
سنو! تم سے یہ کہنا ہے
کہ تم میری محبت سے کبھی مت بدگماں ہونا
کہ میری زندگانی کے سبھی رستے
جو سچ پوچھو ،تمہاری سمت آتے ہیں
میں تم سے دور رہ پاؤں یہ اب ممکن نہیں جاناں
سنو! عہد محبت کی مجھے تجدید کرنی ہے
پرانی بات ہے لیکن مجھے پھر بھی یہ کہنی ہے
مجھے تم سے محبت تھی، مجھے تم سے محبت ہے
ہر اک موسم تمہارا ہے
تمہارا ساتھ پیاراہے
سنو اے ہمسفر میرے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






