وصل
Poet: noor dilkash By: noor dilkash , gulbargaہم سے ملنا ہے تجھے مشکل بہت
ٹوٹ کر ملتے نہیں ہیں دل بہت
وہ مجھے اپنا سمجھ پایا نہیں
جس کو میں سمجها مرے قابل بہت
اس غرورحسن کے آگے بهی کیوں
تهی طبیعت اپنی بهی مایل بہت
جو مجھے بهولا رہا آٹھوں پہر
تها مری یادوں میں وہ شامل بہت
پیکرِ حق کوئی بھی ملتا نہیں
ہیں یہاں پر پیکرِ باطل بہت
عقل کے اندھوں میں ہے ان کا شمار
خود کو جو کہتے رہے عاقل بہت
جس کے سینے میں کوئی دل ہی نہیں
اس پہ ہی آیا ہے میرا دل بہت
اس کو پانے کے لئے شام و سحر
ہم نے کی ہے سعی لا حاصل بہت
آ گئے ہو قاتلوں کے شہر میں
نور دلکش ہے یہاں قا تل بہت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






