وطن ملا ہے حفاظت کرو وطن والو
Poet: azharm By: Azhar, Dohaالسلام و علیکم دوستو
چھت سر پر ہو تو پناہ ہوتی ہے، وطن ہماری چھت ہے، اس کی حفاظت کیجیے
ایک حقیر نزرانہ پیش کرتا ہوں مادر وطن کے نام
جشن آزادی مبارک ہو
وطن ملا ہے حفاظت کرو وطن والو
کھلا جو پھول ہے کھونا نہیں چمن والو
سنو بہار سے پہلے خزاں تو رہتی ہے
کلی کلی کی اُداسی یہ تُم سے کہتی ہے
کھلیں گے پھول، نہ بھولو مگر لگن والو
وطن ملا ہے حفاظت کرو وطن والو
رہے یہ یاد کہ عیار سے بچا رکھنا
وطن کو بیچ دے غدار سے بچا رکھنا
انہیں دبا دو زمیں میں کہیں کفن والو
وطن ملا ہے حفاظت کرو وطن والو
وطن ہے جسم کے جیسا کہیں حرارت ہے
کہیں سکوں ہے میسر، کہیں شرارت ہے
بدن کو کاٹ کے رکھو گے خود بدن والو؟
وطن ملا ہے حفاظت کرو وطن والو
ہے جس کا کام وہ ساجھے اُسی کو تو اچھا
کسی سے لو جو برا بھی تو اُس کو دو اچھا
یہی ہے پاس تمہارے، بڑے چلن والو
وطن ملا ہے حفاظت کرو وطن والو
وطن رہے گا تو سندھی پٹھان بھی ہوں گے
بلوچ قوم کے ہیرے جوان بھی ہوں گے
سبھی کو ساتھ لو پنجاب کے سخن والو
وطن ملا ہے حفاظت کرو وطن والو
وطن ملا ہے حفاظت کرو وطن والو
کھلا جو پھول ہے کھونا نہیں چمن والو
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






