وطن کے بیٹے کی آخری خواہش
Poet: سرور فرحان سرورؔ By: سرور فرحان سرورؔ, Karachiاے جانِ وفا وقت کٹھن آن پڑا ہے
اب فرض محبت سے صلہ مانگ رہا ہے
دشوار ہے بیشک تیری اِک پل کی جدائی
پر کیا کروں کہ فرض بھی دیتا ہے دُہائی؟
یہ فرض میری جان جو ہر شے سے سوا ہے
اے جانِ وفا وقت کٹھن آن پڑا ہے
کل تک تیری آنکھیں ہی میری کائنات تھیں
کل تک تیری یادیں ہی دھڑکن کے ساتھ تھیں
کل تک تیرے ہونٹوں کی ہنسی میری طلب تھی
پاکر تجھے کچھ اور کی خواہش بھلا کب تھی؟
پر آج میرے دل میں اِک اور تمنّا ہے
اے جانِ وفا وقت کٹھن آن پڑا ہے
جس ماں نے ہر دکھ سے ہم کو ہے بچایا
ہر رات اپنے پیار کے آنچل میں سلایا
اس ملک نے ہم پر بہت احسان کئیے ہیں
اس دھرتی کے سائے میں ہم پروان چڑھے ہیں
پر دستِ عدو آج جو اس سمت بڑھا ہے
اے جانِ وفا وقت کٹھن آن پڑا ہے
جاتے ہوئے تم سے اِک بات ہے کہنا
اس درد جدائی کو ہنستے ہوئے سہنا
رخصت مجھے کرنا تو اشکوں سے نہ کرنا
آنسو تیرے سکھلا نہ دیں مجھ کو کہیں ڈرنا
اس قلبِ مضطر کی اتنی سی صدا ہے
اے جانِ وفا وقت کٹھن آن پڑا ہے
غازی اگر لوٹوں تو تم جشن منانا
پاؤں جو شہادت تو بھی آنسو نہ بہانا
مقروض ہوں مٹی کا، مٹی میں سلادینا
تربت پہ میری جاناں، بس اتنا لکھا دینا
یاں ایک فرزندِ زمیں سویا ہوا ہے
اے جانِ وفا وقت کٹھن آن پڑا ہے
(تمام پاکستانیوں کو بالعموم اور افواجِ پاکستان کو بالخصوص یومِ آزادی مبارک)
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






