وفا لکھی تھی ھم نے
Poet: Gulzareen Pasha Zareen By: Gulzareen Pasha Zareen, Kallar Syedanوفا لکھی تھی ھم نے اور قاصد نے جفا لکھدی
جواب خط میں ظالم نے ھماری ھی خطا لکھدی
ستم اس پر کہ منصف بھی اسیر زلف تھا ان کا
ھمارے معافی نامے پر خموشی کی سزا لکھدی
سوال اپنا تھا لب کھولوں جواب ان تھا مت بولو
کہانی مختص سی تھی بنا کر کیا سے کیا لکھدی
ضیافت میں حسینوں کی گرا واعظ جو غش کھا کر
طبیب عشق نے دو گھونٹ بطور دوا لکھدی
میرا دل چیر کر پلکیں گرا لیں اس ستمگر نے
قتل تھا پر رقیبوں نے حسن کی اک ادا لکھ دی
چلے سج دھج کےتھےاہل جنوں سارے سوے مقتل
خوشی کی انتہا تھی یہ انھوں نے ابتدا لکھدی
تھے انگشت بدنداں سب ہی اپنے بھی پراے بھی
کہ روداد ستم ان کی زریں نے برملا لکھدی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






