وفا مانگو ، یا کوئی جزا مانگو
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaوفا مانگو ، یا کوئی جزا مانگو
اے جانے جاء بتا
میں تجھ سے کیا مانگو
ُتو بھی تو اک انسان ہے
تیرے دل میں بھی کچھ ارمان ہے
میں تو ٹوٹ گئی ہوں راستوں میں
میں تو کھو گئی ہوں قافلوں میں
میں اپنی خوشیوں کی خاطر
تیری خوشیوں کا اختتام کیوں مانگو
جاتنی ہوں ! تجھے تو مل جایئں گیے
ہزاروں لوگ شاید مجھ جیسے
مگر تو ہی بتا میں جیسے
خدا سے مانگ چکی ہوں
میں ُاس کے سوا کیا مانگو
تم ہو تو صرف اک انسان مگر
خدا گواہ ہیں کہ میں اپنی ہر سانس کے ساتھ
صرف تیرے لیے ہی دعا مانگو
شاید کوئی قبول ہو ہی جائیں دعا میری
یہی سوچ کہ جاناں میں تجھے
صبح سے شام مانگو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






