وفا کے بدلے وفا کرتے نہیں
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaوفا کے بدلے وفا کرتے نہیں
اِک پل کو سکون عطا کرتے نہیں
دل توڑتے ہیں آئے دن شیشے کی طرح
حسین بارہا کہتے ہیں ہم گناہ کرتے نہیں
سوچ سمجھ کے کہنا حُسن کو خدا یارا
یہ رحم بن کے بالکل خدا کرتے نہیں
اِن کی عادت ہے گلشن ویران کرنا
یہ صحرہ کو ہر گز دریا کرتے نہیں
بنا مانگے یہ جام پِلاتے ہیں ساقی
مانگے تو پانی بھی عطا ذرا کرتے نہیں
چُھپا لیتے ہیں یہ چہرہ نقاب سے نہال
شرارت کرتے ہیں نظروں سے، عیاہ کرتے نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






