وفا کے جھگڑےمٹا سکو تو منانے آؤ
Poet: SYED WAQAS KASHI By: SYED WAQAS SHAH, RAWALPINDIوفا کے جھگڑےمٹا سکو تو منانے آؤ
چاہتوں کے پھول پھر سے کھلا سکو تو منانے آؤ
اگر یہ سوچیں کہ ہم دونوں کا جگھڑا کیا ہے
اگر کسی کو بتا سکو تو منانے آؤ
بہت دنوں سے اداس ہے دل سکڑ رہا ہے
جوچند لمحے ہنسا سکو تو منانے آؤ
میں ایک عرصے سے تنہا چل چل بٹھک چکا ہوں
جو سیدھے رستے پہ لا سکو تو منانے آؤ
ہجر کی راتوں میں پل بھر بھی نہیں میں سویا
جو اپنی زلفوں کے زیر سایہ سلا سکو تو منانے آؤ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






